صحیح بخاری حدیث ۱۱۵ - فتنے، خزانے اور آخرت کی فکر
رات کے فتنے اور آخرت کی فکر والی حدیث
صحیح بخاری : ۱۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۵
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَة ، وَعَمْرٍو ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ ، وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ ، أَيْقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الْحُجَرِ ، فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ " .
ام سلمہ روایت:
ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں (جو) دنیا میں (باریک) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور فرمایا: سبحان اللہ! آج رات کتنے فتنے اتارے گئے اور کتنے خزانے کھولے گئے۔ پھر فرمایا کہ حجرہ والیوں کو جگاؤ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہت سی عورتیں دنیا میں کپڑا پہننے والی ہیں، مگر آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اس حدیث میں فتنوں کے وقت غفلت سے بچنے، گھر والوں کو جگانے اور آخرت کی فکر کرنے کا پیغام ہے۔ حدیث کے الفاظ عورتوں کے بارے میں آئے ہیں، اس لیے اسی حد تک بات رکھی جاتی ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ دنیا کی حالت دیکھ کر آخرت کو نہ بھولا جائے اور عبادت و احتیاط کی طرف توجہ کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتنوں کے وقت غفلت کے بجائے بیداری اور عبادت کی طرف آنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر والوں کو جگانے کا حکم دیا۔
- دنیا کے لباس اور ظاہر پر بھروسا کافی نہیں۔
- آخرت کی فکر انسان کو سنبھالتی ہے۔
