صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۹ - فتنوں کے وقت نماز کی طرف رجوع
فتنوں کے وقت نماز: نبی صلى الله عليه وسلم کی گھبراہٹ والی رات
صحیح بخاری : ۷۰۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۶۹
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ،عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَزِعًا ، يَقُولُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَاذَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْخَزَائِنِ ، وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ ، يُرِيدُ أَزْوَاجَهُ لِكَيْ يُصَلِّينَ ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ " .
ہند بنت الحارث الفراسیہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اللہ کی ذات پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا خزانے نازل کئے ہیں اور کتنے فتنے اتارے ہیں ان حجرہ والیوں کو کوئی بیدار کیوں نہ کرے آپ کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ بہت سے دنیا میں کپڑے باریک پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع فتنوں کے وقت نماز کی طرف رجوع ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلى الله عليه وسلم گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا کہ اللہ پاک ہے، کتنے خزانے نازل ہوئے اور کتنے فتنے اتارے گئے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ حجرہ والیوں کو کون بیدار کرے، یعنی ازواج مطہرات کو، تاکہ وہ نماز پڑھیں۔ آخر میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بہت سی دنیا میں کپڑے پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اس حدیث میں فتنہ، رات کی نماز، بیداری اور آخرت کی فکر ایک ساتھ آتے ہیں۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ فتنوں کے وقت غفلت کے بجائے عبادت، خاص طور پر نماز، اختیار کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتنوں کے وقت نماز کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے بیدار کرنے کی فکر فرمائی۔
- دنیا کی ظاہری حالت آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
- آخرت کی فکر انسان کو غفلت سے بچاتی ہے۔
