صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۸ - مشکل دور میں صبر کی تعلیم

مشکل زمانے میں صبر: فتنوں کے دور کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۶۸

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، قَالَ : أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ : "اصْبِرُوا ، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

زبیر بن عدی روایت:

ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی، انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع صبر ہے۔ زبیر بن عدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: صبر کرو، کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے، اس کے بعد آنے والا دور اس سے برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ پھر انہوں نے بتایا کہ یہ بات انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے سنی ہے۔ یہاں صبر کا مطلب یہ ہے کہ سخت حالات میں بے قابو نہ ہوا جائے اور دین پر قائم رہا جائے۔ حدیث میں ظلم، شکایت، زمانے کی خرابی اور رب سے ملاقات تک صبر کا ذکر ہے۔ اس میں کسی خاص سیاسی حکم کی تفصیل نہیں، اس لیے اصل پیغام صبر اور ثابت قدمی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشکل دور میں جلد بازی کے بجائے صبر کی نصیحت کی گئی ہے۔
  • ہر آنے والا زمانہ پہلے سے سخت ہو سکتا ہے، جیسا حدیث میں آیا۔
  • شکایت کے وقت بھی دین کی ہدایت کو سامنے رکھنا چاہیے۔
  • مومن کو رب سے ملاقات تک ثابت قدم رہنے کی فکر کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں