صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۷ - بدترین لوگوں پر قیامت کا آنا
قیامت کا آنا اور بدترین لوگوں کی حالت
صحیح بخاری : ۷۰۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۶۷
وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ،عَنِ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ : تَعْلَمُ الْأَيَّامَ الَّتِي ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ الْهَرْجِ ، نَحْوَهُ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكْهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
´اور ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا` آپ وہ حدیث جانتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «هرج» کے دنوں وغیرہ کے متعلق بیان کی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ وہ بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث قیامت کے وقت زندہ رہنے والے بدترین لوگوں کے بارے میں ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہرج کے دنوں کے بارے میں پوچھا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل کیا کہ جن لوگوں کی زندگی میں قیامت آئے گی وہ بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوں گے۔ اس حدیث میں اصل بات قیامت کی گھڑی، ہرج کے دن اور لوگوں کی دینی حالت سے متعلق ہے۔ متن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ لوگ کون کون ہوں گے، اس لیے اسی حد تک بات رکھنی چاہیے کہ قیامت ایسے بدحال اور بدعمل لوگوں پر آئے گی جنہیں حدیث میں شرار الناس یعنی بدترین لوگوں میں شمار کیا گیا۔ یہ حدیث انسان کو اپنی حالت درست رکھنے کی یاد دہانی کراتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کا وقت عام صالح لوگوں کے لیے نہیں بلکہ بدترین لوگوں پر آئے گا۔
- ہرج کے دنوں کا ذکر قیامت کے قریب کے سخت حالات سے جڑا ہے۔
- حدیث کا پیغام انسان کو اپنی دینی حالت کا جائزہ لینے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
- متن سے باہر جا کر قیامت کے وقت کی تفصیل بیان نہیں کرنی چاہیے۔
