صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۶ - قیامت سے پہلے علم کا اٹھ جانا

علم کا اٹھ جانا اور جہالت کا پھیلنا: قیامت کی نشانی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۶۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَحْسِبُهُ رَفَعَهُ ، قَالَ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامُ الْهَرْجِ ، يَزُولُ فِيهَا الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرُ فِيهَا الْجَهْلُ " ، قَالَ أَبُو مُوسَى : وَالْهَرْجُ : الْقَتْلُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ .

عبداللہ بن مسعود روایت:

´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے واصل نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور میرا خیال ہے کہ` اس حدیث کو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا، کہا کہ قیامت سے پہلے «هرج» کے دن ہوں گے، ان میں علم ختم ہو جائے گا اور جہالت غالب ہو گی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشی زبان میں «هرج» بمعنی قتل ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع علم کا اٹھ جانا، جہالت کا بڑھنا اور قیامت سے پہلے ہرج کے دن ہیں۔ حدیث میں بتایا گیا کہ قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم ختم ہو جائے گا اور جہالت غالب ہو گی۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی کہ حبشی زبان میں ہرج کا مطلب قتل ہے۔ اس سے بات صاف ہوتی ہے کہ جب صحیح علم کم ہو، دین کی سمجھ کمزور ہو اور لوگوں پر جہالت غالب آ جائے تو خون ریزی جیسے بڑے فساد آسان ہو جاتے ہیں۔ اس حدیث میں قیامت کی نشانی، علم کی کمی، جہالت کا پھیلنا اور قتل و فساد جیسے الفاظ فطری طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ مسلمان کے لیے پیغام یہ ہے کہ علم کو معمولی نہ سمجھے اور جہالت کو خطرہ سمجھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • علم کا کم ہونا معاشرے کے لیے خطرناک حالت ہے۔
  • جہالت کے غالب آنے سے قتل و فساد بڑھ سکتے ہیں۔
  • ہرج کا مطلب اس روایت میں قتل بتایا گیا ہے۔
  • قیامت سے پہلے کے حالات میں دین کا صحیح علم سنبھالنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں