صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۵ - ہرج کا مطلب قتل ہے
ہرج کا مطلب کیا ہے؟ قتل کی کثرت والی حدیث
صحیح بخاری : ۷۰۶۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۶۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَالْهَرْجُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ : الْقَتْلُ .
ابووائل روایت:
میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اسی طرح۔ «هرج» حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابووائل بیان کرتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا، اور پھر وضاحت کی کہ ہرج حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں۔ یہ روایت پچھلی احادیث کے مضمون کو مزید صاف کرتی ہے، کیونکہ ہرج کا لفظ عربی سننے والے ہر شخص کے لیے فوراً واضح نہ ہو سکتا تھا۔ اس لیے اس کے معنی قتل بتائے گئے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع فتنہ قتل ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ جب دینی علم کم ہو، جہالت بڑھے اور فتنوں کا دور ہو، تو خون ریزی کا خطرہ خاص طور پر سنگین ہو جاتا ہے۔ مسلمان کو ایسے حالات میں اپنی زبان، ہاتھ اور قدم کو بچانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہرج کا معنی اس روایت میں قتل بتایا گیا ہے۔
- حدیث کے الفاظ کو سمجھنے کے لیے صحابہ کی وضاحت اہم ہے۔
- قتل کی کثرت فتنوں کی بڑی علامت کے طور پر آئی ہے۔
- فتنوں میں خون ریزی سے بچنا ضروری ہے۔
