صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۴ - علم اٹھے گا اور ہرج بڑھے گا
قیامت سے پہلے علم کی کمی، جہالت اور قتل کی کثرت
صحیح بخاری : ۷۰۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۶۴
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، قَالَ : جَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَأَبُو مُوسَى فَتَحَدَّثَا ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ ، الْقَتْلُ " .
شقیق روایت:
عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما بیٹھے اور گفتگو کرتے رہے پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت اترے پڑے گی اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» قتل ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۴ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا کہ قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت اتر پڑے گی، اور ہرج کی کثرت ہو جائے گی۔ پھر واضح کیا گیا کہ ہرج قتل ہے۔ اس حدیث میں ترتیب بھی قابل توجہ ہے: علم کا اٹھنا، جہالت کا آنا، اور پھر قتل کا بڑھنا۔ اس سے یہ سمجھ آتی ہے کہ علم اور سمجھ کی کمی معاشرتی فتنوں کو سنگین بنا دیتی ہے۔ عام زندگی میں اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ انسان دینی علم کو مضبوط کرے، جہالت پر مبنی باتوں سے بچے، اور ایسے ماحول سے دور رہے جہاں خون ریزی یا فتنے کی طرف دھکیلا جا رہا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی علم کی کمی بہت بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
- جہالت پھیلنے سے فتنوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔
- ہرج کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل فرمایا۔
- فتنوں کے دور میں علم اور احتیاط کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
