صحیح بخاری حدیث ۸۵ - علم اٹھ جانا اور فتنے پھیلنا
علم اٹھ جانا اور فتنے بڑھنا: ہرج کی حدیث
صحیح بخاری : ۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۵
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُقْبَضُ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ وَالْفِتَنُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْهَرْجُ ؟ فَقَالَ : هَكَذَا بِيَدِهِ ، فَحَرَّفَهَا كَأَنَّه يُرِيدُ الْقَتْلَ " .
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب) علم اٹھا لیا جائے گا۔ جہالت اور فتنے پھیل جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا۔ آپ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو حرکت دے کر فرمایا اس طرح، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قتل مراد لیا۔
صحیح بخاری حدیث ۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت اور فتنے ظاہر ہوں گے، اور ہرج بڑھ جائے گا۔ جب پوچھا گیا کہ ہرج کیا ہے تو آپ نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا، گویا اس سے قتل مراد تھا۔ اس روایت میں اصل توجہ علم اور امن کی قدر پر ہے۔ جب علم کم ہو اور جہالت عام ہو، تو فتنوں کا راستہ کھلتا ہے۔ لوگ غلط فیصلے کرتے ہیں، جذبات میں آتے ہیں، اور جانوں کی حرمت کم سمجھنے لگتے ہیں۔ مسلمان کے لیے اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ علم سے جڑے، فتنوں سے بچے، اور کسی بھی فساد یا قتل و خون کے ماحول سے دور رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم کا اٹھ جانا خطرناک حالات کی نشانی ہے۔
- جہالت اور فتنے ایک دوسرے کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔
- قتل و خون کو معمولی سمجھنا بہت خطرناک بات ہے۔
- مسلمان کو علم، صبر اور امن کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
