صحیح بخاری حدیث ۱۰۰ - علماء کی وفات سے علم اٹھنا
علم کیسے اٹھتا ہے؟ علماء کی وفات اور جاہل رہنمائی
صحیح بخاری : ۱۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۰
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا " ، قَالَ الْفِرَبْرِيُّ : حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ .
عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا` آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ (پختہ کار) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔فربری نے کہا ہم سے عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے قتیبہ نے، کہا ہم سے جریر نے، انہوں نے ہشام سے مانند اس حدیث کے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ علم کو بندوں کے دلوں سے اچانک کھینچ کر نہیں اٹھائے گا، بلکہ علماء کی وفات کے ذریعے علم اٹھے گا۔ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے۔ ان سے سوال کیے جائیں گے، وہ بغیر علم کے جواب دیں گے، خود بھی بھٹکیں گے اور دوسروں کو بھی بھٹکائیں گے۔ یہ حدیث علم کی قدر، علماء کی اہمیت اور بغیر علم کے فتویٰ دینے کے خطرے کو صاف بیان کرتی ہے۔ مسلمان کے لیے سبق یہ ہے کہ دین کے مسائل میں اہل علم کی طرف رجوع کرے، خود رائے زنی سے بچے، اور علم رکھنے والوں کی زندگی میں ان سے فائدہ اٹھائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم کا اٹھنا علماء کی وفات کے ذریعے ہوتا ہے۔
- بغیر علم کے جواب دینا خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
- دینی مسائل میں جاہل رہنماؤں کی پیروی خطرناک ہے۔
- اہل علم کی قدر کرنی چاہیے اور ان سے دین سیکھنا چاہیے۔
