صحیح بخاری حدیث ۸۱ - علم کم ہونا اور قیامت کی نشانیاں
علم کم ہونا: قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک
صحیح بخاری : ۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ، أَنْ يَقِلَّ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا ، وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ " .
انس روایت:
میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی نہیں بیان کرے گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ علامات قیامت میں سے یہ ہے کہ علم (دین) کم ہو جائے گا۔ جہل ظاہر ہو جائے گا۔ زنا بکثرت ہو گا۔ عورتیں بڑھ جائیں گی اور مرد کم ہو جائیں گے۔ حتیٰ کہ 50 عورتوں کا نگراں صرف ایک مرد رہ جائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی چند نشانیاں بیان فرمائیں۔ اصل بات یہ ہے کہ دینی علم کم ہو جائے گا، جہالت کھل کر سامنے آئے گی، زنا عام ہو گا، عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی اور مرد کم ہو جائیں گے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام علم کی قدر ہے۔ جب علم کم ہو تو انسان صحیح اور غلط میں فرق کم سمجھتا ہے، پھر جہالت اور گناہ پھیلتے ہیں۔ یہاں قیامت کی نشانیاں ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ ہوشیار کرنے کے لیے بیان ہوئی ہیں۔ مسلمان کے لیے سبق یہ ہے کہ دینی علم حاصل کرے، اسے سنبھالے، اور ایسے ماحول سے بچے جہاں جہالت اور بے حیائی عام ہو رہی ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی علم کم ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
- جہالت پھیلنے سے معاشرے میں غلط کام بڑھ سکتے ہیں۔
- مسلمان کو علم حاصل کرنے اور اسے آگے پہنچانے کی فکر کرنی چاہیے۔
- برائیوں کے عام ہونے پر انسان کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے۔
