صحیح بخاری حدیث ۸۰ - قیامت کی نشانیاں اور علم کا اٹھ جانا

قیامت کی نشانیاں: علم اٹھنا اور جہالت پھیلنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۰

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ علامات قیامت میں سے یہ ہے کہ (دینی) علم اٹھ جائے گا اور جہل ہی جہل ظاہر ہو جائے گا۔ اور (علانیہ) شراب پی جائے گی اور زنا پھیل جائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علامات قیامت میں سے چند باتیں بیان فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ دینی علم اٹھ جائے گا، جہل ظاہر ہو جائے گا، شراب پی جائے گی اور زنا پھیل جائے گا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع علامات قیامت ہے، خاص طور پر علم کا کم ہونا اور جہالت کا ظاہر ہونا۔ اس میں یہ بات صاف بتائی گئی ہے کہ معاشرے میں جب علم کم ہو اور جہالت عام ہو، تو برائیاں بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ حدیث میں شراب نوشی اور زنا کے پھیلنے کا ذکر بھی آیا ہے۔ اس لیے اس روایت کا پیغام یہ ہے کہ علم دین کی قدر کی جائے، جہالت سے بچا جائے، اور ان برائیوں سے دور رہا جائے جنہیں علامات قیامت میں شمار کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کی نشانیوں میں علم کا اٹھ جانا بیان ہوا ہے۔
  • جہالت کا ظاہر ہونا خطرناک علامت ہے۔
  • شراب نوشی اور زنا کا پھیلنا علامات قیامت میں سے ہے۔
  • دینی علم کی قدر کرنا اور جہالت سے بچنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں