صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۳ - قیامت سے پہلے جہالت اور ہرج
ہرج یعنی قتل: علم کے اٹھنے اور جہالت کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۰۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۶۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَا : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَأَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ ، وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ ، الْقَتْلُ " .
عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن سے پہلے ایسے دن ہوں گے جن میں جہالت اترے پڑے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا اور «هرج» بڑھ جائے گا اور «هرج» قتل ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۳ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے ایسے دن ہوں گے جن میں جہالت اتر پڑے گی، علم اٹھا لیا جائے گا، اور ہرج زیادہ ہو جائے گا۔ حدیث میں خود بتا دیا گیا کہ ہرج سے مراد قتل ہے۔ اس کا اصل سبق یہ ہے کہ علم کی کمی اور جہالت کا پھیلنا معمولی بات نہیں؛ یہ معاشرے کو فتنوں اور خون ریزی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، مگر چند الفاظ میں بڑی تنبیہ موجود ہے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دینی علم کو اہم سمجھے، سنی سنائی باتوں اور جہالت پر مبنی ردعمل سے بچے، اور فتنوں میں خون ریزی سے دور رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم کا اٹھ جانا قیامت سے پہلے کی اہم علامتوں میں ذکر ہوا ہے۔
- جہالت کے پھیلنے سے معاشرہ خطرناک رخ اختیار کر سکتا ہے۔
- ہرج کا مطلب حدیث میں قتل بتایا گیا ہے۔
- فتنوں میں خون ریزی سے بچنا ضروری ہے۔
