صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۲ - علم اٹھنا، جہالت اور قتل کی کثرت

قیامت سے پہلے علم کا اٹھنا، جہالت اور قتل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۶۲

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَا : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَأَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ ، وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ ، الْقَتْلُ " .

عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن سے پہلے ایسے دن ہوں گے جن میں جہالت اترے پڑے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا اور «هرج» بڑھ جائے گا اور «هرج» قتل ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۰۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ قیامت کے دن سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں جہالت اتر پڑے گی، علم اٹھا لیا جائے گا، اور ہرج بڑھ جائے گا۔ پھر حدیث میں ہرج کی وضاحت خود کر دی گئی کہ ہرج قتل ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع علم، جہالت اور قتل کی کثرت ہے۔ روایت کا پیغام بہت واضح ہے: جب علم کم ہو اور جہالت پھیل جائے تو فتنوں اور خون ریزی کا ماحول بن سکتا ہے۔ یہاں علم سے مراد دینی علم کا اٹھنا ہے، جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ اس لیے مسلمان کو علم کی قدر، جہالت سے بچاؤ اور فتنہ قتل سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت سے پہلے علم اٹھنے اور جہالت پھیلنے کی خبر دی گئی ہے۔
  • ہرج کی وضاحت حدیث میں قتل کے طور پر کی گئی ہے۔
  • علم کی کمی فتنوں کو بڑھانے والی صورت بن سکتی ہے۔
  • دینی علم کو حاصل کرنا اور محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں