صحیح بخاری حدیث ۴۴۵۰ - عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر وفات اور مسواک
عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آخری قیام: نبی صلى الله عليه وسلم کی مسواک کا واقعہ
صحیح بخاری : ۴۴۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۵۰
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، يَقُولُ : " أَيْنَ أَنَا غَدًا ، أَيْنَ أَنَا غَدًا ؟ " يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِيهِ فِي بَيْتِي ، فَقَبَضَهُ اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي ، وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي ، ثُمَّ قَالَتْ : دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُّ بِهِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْطَانِيهِ ، فَقَضِمْتُهُ ، ثُمَّ مَضَغْتُهُ ، فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَنَّ بِهِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى صَدْرِي .
عائشہ روایت:
مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے رہتے تھے کہ کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے منتظر تھے، پھر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر قیام کی اجازت دے دی اور آپ کی وفات انہیں کے گھر میں ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ کی وفات اسی دن ہوئی جس دن قاعدہ کے مطابق میرے یہاں آپ کے قیام کی باری تھی۔ رحلت کے وقت سر مبارک میرے سینے پر تھا اور میرا تھوک آپ کے تھوک کے ساتھ ملا تھا۔انہوں نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ میں استعمال کے قابل مسواک تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: عبدالرحمٰن! یہ مسواک مجھے دے دو۔ انہوں نے مسواک مجھے دے دی۔ میں نے اسے اچھی طرح چبایا اور جھاڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، پھر آپ نے وہ مسواک کی، اس وقت آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کا آخری قیام اور مسواک ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مرض وفات میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم پوچھتے تھے کہ کل میرا قیام کہاں ہوگا۔ آپ صلى الله عليه وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے منتظر تھے۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے اجازت دے دی کہ آپ صلى الله عليه وسلم جہاں چاہیں قیام کریں، چنانچہ آپ صلى الله عليه وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہے اور وہیں وفات ہوئی۔ اسی وقت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ مسواک لے کر آئے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے سمجھ لیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم مسواک چاہتے ہیں۔ انہوں نے مسواک چبا کر نرم کی اور آپ صلى الله عليه وسلم کو دی، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے مسواک کی۔ اس حدیث میں گھریلو محبت، باہمی اجازت، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی پاکیزگی سے محبت نمایاں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ازواج مطہرات کے حقوق اور باری کا خیال رکھا۔
- ازواج مطہرات نے بیماری کے وقت نبی صلى الله عليه وسلم کے آرام کو ترجیح دی۔
- مسواک نبی صلى الله عليه وسلم کی پسندیدہ سنتوں میں سے تھی، جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کی ضرورت کو سمجھ کر خدمت کی۔
