صحیح بخاری حدیث ۴۴۵۱ - آخری دن، مسواک اور رفیق اعلیٰ
نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری دن کی حدیث: رفیق اعلیٰ اور مسواک
صحیح بخاری : ۴۴۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۵۱
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي ، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي ، وَكَانَتْ إِحْدَانَا تُعَوِّذُهُ بِدُعَاءٍ إِذَا مَرِضَ ، فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، وَقَالَ : "فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى " ، وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً فَأَخَذْتُهَا ، فَمَضَغْتُ رَأْسَهَا وَنَفَضْتُهَا فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ ، فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ مُسْتَنًّا ، ثُمَّ نَاوَلَنِيهَا فَسَقَطَتْ يَدُهُ أَوْ سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ ، فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا ، وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں، میری باری کے دن ہوئی۔ آپ اس وقت میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ جب آپ بیمار پڑے تو ہم آپ کی صحت کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس بیماری میں بھی میں آپ کے لیے دعا کرنے لگی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اور آپ کا سر آسمان کی طرف اٹھا ہوا تھا «في الرفيق الأعلى في الرفيق الأعلى» اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک تازہ ٹہنی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ ٹہنی میں نے ان سے لے لی۔ پہلے میں نے اسے چبایا، پھر صاف کر کے آپ کو دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مسواک کی، جس طرح پہلے آپ مسواک کیا کرتے تھے اس سے بھی اچھی طرح سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک مجھے عنایت فرمائی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا، یا (راوی نے یہ بیان کیا کہ) مسواک آپ کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک کو اس دن جمع کر دیا جو آپ کی دنیا کی زندگی کا سب سے آخری اور آخرت کی زندگی کا سب سے پہلا دن تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع رفیق اعلیٰ اور نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری لمحات ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی وفات ان کے گھر، ان کی باری کے دن، ان کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے ہوئی۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم بیمار ہوتے تو دعائیں کی جاتیں۔ اس بیماری میں عائشہ رضی اللہ عنہا دعا کرنے لگیں، مگر نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: في الرفيق الأعلى۔ پھر عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ تازہ ٹہنی لے کر گزرے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے دیکھا تو عائشہ رضی اللہ عنہا سمجھ گئیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم کو مسواک کی حاجت ہے۔ انہوں نے ٹہنی چبا کر صاف کی اور آپ صلى الله عليه وسلم کو دی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے اچھی طرح مسواک کی۔ اس روایت میں آخرت کی طرف رغبت، ذکر، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت کا نرم پہلو سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری کلمات میں رفیق اعلیٰ کا ذکر آیا۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلى الله عليه وسلم کی کیفیت کو غور سے سمجھتی تھیں۔
- مسواک کا عمل نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی کے آخری دن تک ثابت ہے۔
- آخری وقت میں اللہ کی طرف رجوع اور ذکر کا پہلو بہت نمایاں ہے۔
