صحیح بخاری حدیث ۴۴۶۰ - کتاب اللہ کی وصیت
کتاب اللہ کی وصیت: نبی صلى الله عليه وسلم نے قرآن کے بارے میں کیا فرمایا؟
صحیح بخاری : ۴۴۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۶۰
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ , عَنْ طَلْحَةَ , قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " لَا " ، فَقُلْتُ : كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِهَا ؟ قَالَ : " أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ " .
طلحہ بن مصرف روایت:
میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو وصی بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ لوگوں پر وصیت کرنا کیسے فرض ہے یا وصیت کرنے کا کیسے حکم ہے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ نے کتاب اللہ کے مطابق عمل کرتے رہنے کی وصیت کی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع کتاب اللہ کی وصیت ہے۔ طلحہ بن مصرف بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کسی کو وصی بنایا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ پھر پوچھا گیا کہ لوگوں پر وصیت کیسے فرض یا مقرر کی گئی؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے کتاب اللہ کے مطابق عمل کرتے رہنے کی وصیت کی تھی۔ اس حدیث کا پیغام بہت صاف ہے: نبی صلى الله عليه وسلم نے کسی خاص شخص کو وصی بنانے کی بات نہیں فرمائی، بلکہ امت کو قرآن یعنی کتاب اللہ سے جڑے رہنے کی وصیت کی۔ اس میں قرآن کی طرف رجوع، عمل، اور دینی رہنمائی کا بنیادی اصول موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کی وصیت کتاب اللہ کے بارے میں بیان کی گئی۔
- قرآن سے رہنمائی لینا امت کے لیے بنیادی ہدایت ہے۔
- خاص وصی کے سوال پر عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے صاف جواب دیا۔
- دینی سوالات میں مختصر مگر واضح جواب دینا مفید ہوتا ہے۔
