صحیح بخاری حدیث ۵۰۲۲ - کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامنا

کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کی وصیت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۲۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، " أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : لَا ، فَقُلْتُ : كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أُمِرُوا بِهَا وَلَمْ يُوصِ ؟ قَالَ : أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ " .

طلحہ بن مصرف روایت:

میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا نبی کریم نے کوئی وصیت فرمائی تھی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا: پھر لوگوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی کہ مسلمانوں کو تو وصیت کا حکم ہے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت نہیں فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رہنے کی وصیت فرمائی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۰۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں طلحہ بن مصرف بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کوئی وصیت فرمائی تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر طلحہ نے سوال کیا کہ لوگوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی جبکہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کوئی وصیت نہیں فرمائی؟ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کی وصیت فرمائی تھی۔ اس حدیث میں کتاب اللہ کی پیروی، قرآن سے تعلق، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی امت کے لیے رہنمائی کا خلاصہ بیان ہوا ہے۔ یہاں وصیت کا مرکزی مضمون مال یا دنیاوی چیز نہیں، بلکہ قرآن کو پکڑنا ہے۔ یہ بات بہت صاف ہے کہ مسلمان کے لیے قرآن محض پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ تھامنے اور عمل کی کتاب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی وصیت کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کی تھی۔
  • صحابہ نے وصیت کے مسئلے پر سوال کیا اور جواب لیا۔
  • قرآن امت کے لیے بنیادی رہنمائی ہے۔
  • دین میں اصل سہارا کتاب اللہ ہے، جیسا کہ اس روایت میں آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں