صحیح بخاری حدیث ۴۴۶۵ - وحی اور مکی مدنی زندگی

نبی صلى الله عليه وسلم کی مکی اور مدنی زندگی: وحی کے نزول کا زمانہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۶۵

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " .

عائشہ اور ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بعثت کے بعد) مکہ میں دس سال تک قیام کیا۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ میں بھی دس سال تک آپ کا قیام رہا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۴۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کی سیرت اور وحی کا زمانہ ہے۔ روایت میں حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بعثت کے بعد مکہ میں دس سال قیام فرمایا، اس دوران آپ صلى الله عليه وسلم پر قرآن نازل ہوتا رہا، پھر مدینہ میں بھی دس سال آپ صلى الله عليه وسلم کا قیام رہا۔ اس سے ہمیں نبی صلى الله عليه وسلم کی مکی اور مدنی زندگی کا ایک مختصر مگر اہم خاکہ ملتا ہے۔ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی، وحی کا نزول، مکہ مدینہ قیام، اور سیرت النبی صلى الله عليه وسلم کے بنیادی مراحل کو آسان انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ قرآن کا نزول ایک باقاعدہ دور میں ہوا اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی دعوتی زندگی کے مختلف مرحلے مکہ اور مدینہ میں گزارے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں مکہ اور مدینہ دونوں ادوار اہم ہیں۔
  • قرآن کا نزول نبی صلى الله عليه وسلم کی دعوتی زندگی کے دوران جاری رہا۔
  • سیرت کو سمجھنے کے لیے وحی کے زمانے اور قیام کے مراحل جاننا مفید ہے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی کے اہم واقعات محفوظ کیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں