صحیح بخاری حدیث ۴۴۶۴ - مکہ و مدینہ میں نزول قرآن
مکہ اور مدینہ کا دور: نزول قرآن کی مدت سے متعلق حدیث
صحیح بخاری : ۴۴۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۶۴
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا " .
عائشہ اور ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بعثت کے بعد) مکہ میں دس سال تک قیام کیا۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ میں بھی دس سال تک آپ کا قیام رہا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نزول قرآن اور نبی صلى الله عليه وسلم کے مکی و مدنی قیام کی مدت ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم مکہ میں دس سال رہے اور اس دوران آپ صلى الله عليه وسلم پر قرآن نازل ہوتا رہا، پھر مدینہ میں بھی دس سال قیام فرمایا۔ اس روایت میں قرآن کے نزول کو نبی صلى الله عليه وسلم کی دعوتی زندگی کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا گیا ہے۔ حدیث مختصر ہے، اس لیے اس میں اسی بات پر رکنا چاہیے کہ مکہ اور مدینہ کے دو ادوار کا ذکر آیا ہے، اور دونوں ادوار میں نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی قرآن کی ہدایت سے جڑی رہی۔ اس سے قرآن کی تدریجی تعلیم اور نبوی زندگی کی ترتیب سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کا نزول نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی کے اہم ادوار سے جڑا ہوا تھا۔
- مکہ اور مدینہ دونوں جگہ نبی صلى الله عليه وسلم کی دعوت جاری رہی۔
- روایت میں مکی اور مدنی قیام کی مدت کا ذکر کیا گیا ہے۔
- قرآن کو نبی صلى الله عليه وسلم کی سیرت کے ساتھ سمجھنا مفید ہے۔
