صحیح بخاری حدیث ۴۹۷۹ - مکی اور مدنی وحی
مکی اور مدنی دور میں قرآن کا نزول
صحیح بخاری : ۴۹۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۷۹
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : "لَبِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ " .
سلمی بن عبدالرحمٰن بن عوف روایت:
مجھ کو عائشہ، عبداللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال رہے اور قرآن نازل ہوتا رہا اور مدینہ میں بھی دس سال تک رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہاں بھی قرآن نازل ہوتا رہا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مکی اور مدنی وحی ہے۔ روایت میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم مکہ میں دس سال رہے اور قرآن نازل ہوتا رہا، پھر مدینہ میں بھی دس سال رہے اور وہاں بھی قرآن نازل ہوتا رہا۔ یہ بات قرآن کے نزول کی مسلسل صورت کو سمجھاتی ہے۔ اس حدیث میں نزول قرآن، مکی مدنی قرآن، وحی کی مدت اور نبی صلى الله عليه وسلم کی رسالت کا دور جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔ روایت میں کوئی اضافی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ہمیں اسی بیان تک رہنا چاہیے۔ سادہ پیغام یہ ہے کہ قرآن نبی صلى الله عليه وسلم پر ایک ہی وقت میں نہیں بلکہ مختلف مواقع پر نازل ہوتا رہا، اور یہ سلسلہ مکہ و مدینہ دونوں جگہ جاری رہا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کا نزول نبی صلى الله عليه وسلم کے مکی اور مدنی دونوں ادوار میں ہوا۔
- وحی ایک مسلسل عمل کے طور پر آتی رہی۔
- حدیث میں نزول قرآن کی مدت کو سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
- مکی اور مدنی دور دونوں قرآن کی رہنمائی سے جڑے ہوئے ہیں۔
