صحیح بخاری حدیث ۴۹۸۰ - جبرائیلؑ کی آمد

جبرائیلؑ انسان کی صورت میں آئے: ام سلمہؓ کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۸۰

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : " أُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يَتَحَدَّثُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ : مَنْ هَذَا ؟ أَوْ كَمَا قَالَ : قَالَتْ : هَذَا دِحْيَةُ ، فَلَمَّا قَامَ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ خَبَرَ جِبْرِيلَ " ، أَوْ كَمَا قَالَ : قَالَ أَبِي : قُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ : مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ .

ابوعثمان مہدی روایت:

مجھے معلوم ہوا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے لگے۔ اس وقت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس موجود تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ جانتی ہو یہ کون ہیں؟ یا اسی طرح کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔ ام المؤمنین نے کہا کہ دحیہ الکلبی ہیں۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: اللہ کی قسم! اس وقت (تک) بھی میں انہیں دحیہ الکلبی سمجھتی رہی۔ آخر جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کے آنے کی خبر سنائی تب مجھے حال معلوم ہوا یا اسی طرح کے الفاظ بیان کئے۔معتمر نے بیان کیا کہ میرے والد (سلیمان) نے کہا ‘ میں نے ابوعثمان مہدی سے کہا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا سے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۹۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع وحی اور جبرائیل علیہ السلام کی آمد ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور آپ صلى الله عليه وسلم سے بات کرنے لگے۔ اس وقت ام سلمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان سے پوچھا کہ جانتی ہو یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ دحیہ کلبی ہیں۔ جب وہ چلے گئے تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا اسی خیال میں رہیں، یہاں تک کہ انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ صلى الله عليه وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کے آنے کی خبر دی۔ اس حدیث میں جبرائیل کی حدیث، وحی کیسے آتی تھی، دحیہ کلبی اور فرشتہ انسان کی صورت میں آنے کا ذکر ہے۔ روایت ہمیں صرف اتنا بتاتی ہے کہ کبھی فرشتہ انسانی صورت میں بھی آتا تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جبرائیل علیہ السلام نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس آ کر بات کرتے تھے۔
  • ام سلمہؓ نے انہیں دحیہ کلبی سمجھا، پھر خطبے سے حقیقت معلوم ہوئی۔
  • وحی کے معاملے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی خبر ہی اصل معلومات کا ذریعہ ہے۔
  • فرشتہ کبھی انسان کی صورت میں بھی آیا، جیسا کہ اس روایت میں بیان ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں