صحیح بخاری حدیث ۴۴۸۹ - دو قبلوں کی طرف نماز
دو قبلوں کی طرف نماز پڑھنے والوں کی روایت
صحیح بخاری : ۴۴۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۸۹
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ صَلَّى الْقِبْلَتَيْنِ غَيْرِي " .
انس روایت:
میرے سوا ان صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی اور کوئی اب زندہ نہیں رہا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۸۹ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے مگر اس میں ایک اہم تاریخی دینی اشارہ ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جن صحابہ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، ان میں میرے سوا اب کوئی باقی نہیں رہا۔ دونوں قبلوں سے مراد وہ دور ہے جب پہلے نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی گئی، پھر حکم آنے کے بعد کعبہ کی طرف رخ کیا گیا۔ اس روایت میں کوئی نیا حکم تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا، بلکہ ایک صحابی کی گواہی نقل ہوئی ہے کہ انہوں نے دونوں قبلوں کا زمانہ پایا۔ اس لیے یہ دو قبلوں کی طرف نماز، صلّی القبلتین، تحویل قبلہ، اور صحابہ کی یادداشت سے متعلق روایت ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے اصل بات یہی ہے کہ یہ ایک عینی گواہی ہے، لمبی فقہی بحث نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انس رضی اللہ عنہ نے دونوں قبلوں کا زمانہ دیکھا۔
- روایت صحابی کی عینی گواہی کو محفوظ کرتی ہے۔
- قبلہ تبدیلی ایک ایسا واقعہ تھا جسے صحابہ نے عملی طور پر پایا۔
- مختصر حدیث سے بھی اہم دینی واقعہ سمجھ آ سکتا ہے۔
