صحیح بخاری حدیث ۴۵۰۳ - عاشوراء اور رمضان

عاشوراء اور رمضان: روزے کے حکم کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۰۳

حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ , أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : دَخَلَ عَلَيْهِ الْأَشْعَثُ وَهْوَ يَطْعَمُ , فَقَالَ : الْيَوْمُ عَاشُورَاءُ , فَقَالَ : " كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ فَادْنُ فَكُلْ " .

عبداللہ روایت:

اشعث ان کے یہاں آئے، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، اشعث نے کہا کہ آج تو عاشوراء کا دن ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان دنوں میں عاشوراء کا روزہ رمضان کے روزوں کے نازل ہونے سے پہلے رکھا جاتا تھا لیکن جب رمضان کے روزے کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ چھوڑ دیا گیا۔ آؤ تم بھی کھانے میں شریک ہو جاؤ۔

صحیح بخاری حدیث ۴۵۰۳ کا خلاصہ

یہ حدیث ایک عملی انداز میں عاشوراء کے روزے کا حکم سمجھاتی ہے۔ اشعث، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور وہ کھانا کھا رہے تھے۔ اشعث نے کہا کہ آج عاشوراء ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ عاشوراء کا روزہ رمضان کے روزوں کے نازل ہونے سے پہلے رکھا جاتا تھا، لیکن جب رمضان کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ چھوڑ دیا گیا۔ پھر انہوں نے اشعث سے کہا کہ آؤ، تم بھی کھانے میں شریک ہو جاؤ۔ اس روایت میں عاشوراء کا روزہ، رمضان کے بعد حکم، اور روزہ چھوڑنے کا بیان بہت صاف ہے۔ یہاں مقصد یہ نہیں کہ عاشوراء کی فضیلت پر تفصیل دی جائے، بلکہ متن کے مطابق یہ بتانا ہے کہ رمضان کے حکم کے بعد اس روزے کی سابقہ حیثیت بدل گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن مسعود رضی اللہ عنہ عاشوراء کے دن کھانا کھا رہے تھے۔
  • انہوں نے بتایا کہ یہ روزہ رمضان سے پہلے رکھا جاتا تھا۔
  • رمضان کے حکم کے بعد اس روزے کو چھوڑ دینے کا ذکر کیا گیا۔
  • حدیث میں اشعث کو کھانے میں شریک ہونے کی دعوت بھی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں