صحیح بخاری حدیث ۴۵۰۲ - عاشوراء روزہ کا اختیار
عاشوراء کے روزے کا حکم: رکھنا یا نہ رکھنا
صحیح بخاری : ۴۵۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۰۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : كَانَ عَاشُورَاءُ يُصَامُ قَبْلَ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ , قَالَ : " مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ " .
عائشہ روایت:
عاشوراء کا روزہ رمضان کے روزوں کے حکم سے پہلے رکھا جاتا تھا۔ پھر جب رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا جی چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۰۲ کا خلاصہ
یہ روایت عاشوراء کے روزے کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات نقل کرتی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ رمضان کے روزوں کا حکم آنے سے پہلے عاشوراء کا روزہ رکھا جاتا تھا۔ جب رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو فرمایا گیا کہ جس کا جی چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔ اس حدیث میں اصل بات حکم کی ترتیب ہے: پہلے عاشوراء کا روزہ رکھا جاتا تھا، پھر رمضان کا حکم آیا، اور عاشوراء کے بارے میں اختیار بیان ہوا۔ اس لیے عاشوراء کا روزہ، رمضان فرض روزہ، اور عاشورہ روزہ کا حکم جیسے الفاظ اس روایت کے ساتھ فطری طور پر آتے ہیں۔ متن سے باہر فضائل یا الگ تفصیل شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان سے پہلے عاشوراء کا روزہ رکھا جاتا تھا۔
- رمضان کے حکم کے بعد عاشوراء میں اختیار بیان ہوا۔
- حدیث میں روزہ رکھنے اور افطار کرنے دونوں کی اجازت کا ذکر ہے۔
- حکم کو سمجھنے کے لیے پہلے اور بعد کی ترتیب اہم ہے۔
