صحیح بخاری حدیث ۴۵۱ - مسجد میں تیر کی نوکیں تھامنا
مسجد میں حفاظت: تیر کی نوکیں تھامنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَمْرٍو : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ سِهَامٌ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ایک شخص مسجد نبوی میں آیا اور وہ تیر لیے ہوئے تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ان کی نوکیں تھامے رکھو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں مسجد کے اندر لوگوں کی حفاظت کا ادب سکھایا گیا ہے۔ ایک شخص مسجد نبوی میں تیر لے کر آیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس سے فرمایا کہ ان کی نوکیں تھامے رکھو۔ بات چھوٹی ہے مگر سبق صاف ہے: مسجد میں ایسی چیز ساتھ ہو جس سے کسی کو چوٹ لگ سکتی ہو تو اسے سنبھالنا ضروری ہے۔ حدیث کا موضوع مسجد میں حفاظت، دوسروں کو تکلیف سے بچانا، اور ہتھیار یا نوکیلی چیز کے استعمال میں احتیاط ہے۔ اس میں سخت ڈانٹ نہیں، بلکہ مختصر ہدایت ہے۔ مسلمان کو عبادت گاہ میں بھی اور عام جگہ بھی دوسروں کے جسم، جان اور سکون کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد میں دوسروں کو تکلیف سے بچانا چاہیے۔
- نوکیلی چیز کو سنبھال کر رکھنا ضروری ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے حفاظت کی مختصر ہدایت دی۔
- عبادت گاہ میں احتیاط زیادہ مناسب ہے۔
