صحیح بخاری حدیث ۷۰۷۵ - مسجد اور بازار میں تیر سنبھالنا

مسجد یا بازار میں تیر لے جانا: مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۷۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا ، أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ ، فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا ، أَوْ قَالَ : فَلْيَقْبِضْ بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا شَيْءٌ " .

ابوموسیٰ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد میں یا ہمارے بازار میں گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اسے چاہیے کہ اس کی نوک کا خیال رکھے۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے انہیں تھامے رہے۔ کہیں کسی مسلمان کو اس سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۰۷۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع عوامی جگہوں میں احتیاط ہے۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اسے چاہیے کہ ان کی نوک کا خیال رکھے، یا اپنے ہاتھ سے انہیں تھامے رہے، تاکہ کسی مسلمان کو اس سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اس روایت میں مسجد اور بازار دونوں کا ذکر ہے، یعنی عبادت گاہ ہو یا عام گزرگاہ، دوسروں کی حفاظت ضروری ہے۔ تیر کی نوک کو پکڑنا ایک چھوٹا عمل ہے مگر اس سے بڑے نقصان سے بچاؤ ہوتا ہے۔ یہ حدیث ہتھیار کی احتیاط، عوامی حفاظت، مسجد کے آداب اور مسلمان کو تکلیف نہ دینے کی جامع تعلیم دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسجد اور بازار دونوں جگہ دوسروں کی حفاظت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • تیر یا تیز چیز کی نوک ہاتھ سے سنبھالنی چاہیے۔
  • اسلام معمولی تکلیف سے بچانے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔
  • عوامی جگہوں میں لاپرواہی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں