صحیح بخاری حدیث ۴۵۳۰ - قرآن کی آیت کو اپنی جگہ سے نہ ہٹانا
قرآن کی حفاظت اور آیات کی ترتیب کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۵۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۳۰
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ حَبِيبٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا سورة البقرة آية 234 ، قَالَ : " قَدْ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى ، فَلِمَ تَكْتُبُهَا أَوْ تَدَعُهَا , قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ ".
عبداللہ بن زبیر روایت:
میں نے آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» یعنی ”اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔“ کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اس آیت کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔ اس لیے آپ اسے (مصحف میں) نہ لکھیں یا (یہ کہا کہ) نہ رہنے دیں۔ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بیٹے! میں (قرآن کا) کوئی حرف اس کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع قرآن کی حفاظت اور آیات کی ترتیب کا احترام ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے عثمان رضی اللہ عنہ سے سورۃ البقرہ کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا کہ جب دوسری آیت نے اس کا حکم منسوخ کر دیا تو اسے مصحف میں کیوں رکھا جائے؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اے بھتیجے! میں قرآن کا کوئی حرف اس کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا۔ یہ جواب بہت اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ قرآن کے الفاظ اور ترتیب کے معاملے میں اپنی رائے سے تبدیلی نہیں کرتے تھے۔ حکم کے ناسخ یا منسوخ ہونے کی بحث الگ ہے، مگر تلاوت میں موجود آیت کو اس کے مقام سے ہٹانا کسی شخص کا کام نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کے الفاظ اور ترتیب میں اپنی رائے سے تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔
- صحابہ قرآن کے معاملے میں انتہائی احتیاط کرتے تھے۔
- نسخ کا علم آیت کو مصحف سے نکالنے کی اجازت نہیں بن جاتا۔
- دینی متن کے ساتھ امانت اور پابندی ضروری ہے۔
