صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۹ - عورت کو نکاح سے نہ روکنے کی ہدایت
عورت کو نکاح سے نہ روکنے کی حدیث اور فلا تعضلوهن
صحیح بخاری : ۴۵۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۲۹
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ , قَالَ : كَانَتْ لِي أُخْتٌ تُخْطَبُ إِلَيَّ , وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : عَنْ يُونُسَ , عَنْ الْحَسَنِ , حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ . ح حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنْ الْحَسَنِ : أَنَّ أُخْتَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ , طَلَّقَهَا زَوْجُهَا ، فَتَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، فَخَطَبَهَا فَأَبَى مَعْقِلٌ , فَنَزَلَتْ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ سورة البقرة آية 232 " .
معقل بن یسار روایت:
میری ایک بہن تھیں۔ ان کو ان کے اگلے خاوند نے نکاح کا پیغام دیا۔ (دوسری سند) اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔تیسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا اور ان سے امام حسن بصری نے کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی تھی لیکن جب عدت گزر گئی اور طلاق بائن ہو گئی تو انہوں نے پھر ان کے لیے پیغام نکاح بھیجا۔ معقل رضی اللہ عنہ نے اس پر انکار کیا، مگر عورت چاہتی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی «فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن» کہ ”تم انہیں اس سے مت روکو کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کریں۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نکاح کا حق اور عورت کو بے وجہ روکنے سے منع کرنا ہے۔ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دی۔ عدت گزر گئی اور طلاق بائن ہو گئی۔ پھر اسی سابق شوہر نے دوبارہ نکاح کا پیغام بھیجا۔ معقل رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، لیکن عورت خود نکاح چاہتی تھی۔ اس موقع پر آیت فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن نازل ہوئی، یعنی انہیں اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کریں۔ اس روایت میں جذباتی ردعمل کے بجائے شرعی رہنمائی کو اہم بتایا گیا ہے۔ جب عورت راضی ہو اور معاملہ معروف طریقے پر ہو تو ولی یا گھر والے اپنی ناراضی کو رکاوٹ نہ بنائیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عورت کو جائز نکاح سے بے وجہ روکنا درست نہیں۔
- عدت گزرنے کے بعد سابق شوہر سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے، جب عورت راضی ہو۔
- خاندانی ناراضی کو شرعی حکم پر غالب نہیں کرنا چاہیے۔
- نکاح کے فیصلوں میں عورت کی خواہش کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
