صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۸ - غلط وہم کی تردید اور ازدواجی رہنمائی
ازدواجی تعلق کے بارے میں غلط وہم کی تردید کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۵۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۲۸
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " كَانَتْ الْيَهُودُ ، تَقُولُ : إِذَا جَامَعَهَا مِنْ وَرَائِهَا جَاءَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ ، فَنَزَلَتْ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 " .
جابر روایت:
یہودی کہتے تھے کہ اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» کہ ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک خاص بات بیان ہوئی ہے کہ یہودی کہتے تھے اگر عورت سے ہمبستری کے لیے پیچھے سے آیا جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس پر آیت نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم نازل ہوئی۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ دین غلط وہم، بے بنیاد باتوں اور غیر معتبر دعووں کی اصلاح کرتا ہے۔ یہاں ازدواجی تعلق کے بارے میں ایک مشہور غلط خیال کی تردید کی گئی۔ علمائے کرام کے مطابق حرث کا لفظ نکاح کے جائز مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس لیے آیت کو حیا، نکاح کے ادب اور شرعی حد کے ساتھ سمجھا جاتا ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ مسلمان اپنی نجی زندگی کے مسائل میں بھی قرآن کی رہنمائی لیتا ہے، نہ کہ معاشرتی افواہوں کو بنیاد بناتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ازدواجی معاملات میں بے بنیاد وہم کو دین کی دلیل پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔
- قرآن غلط معاشرتی خیالات کی اصلاح کرتا ہے۔
- نکاح کے مسائل میں شرم و حیا کے ساتھ علم حاصل کرنا چاہیے۔
- کسی دعوے کو ماننے سے پہلے معتبر دینی رہنمائی دیکھنی چاہیے۔
