صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۷ - زوجین کے تعلق سے متعلق قرآنی وضاحت

ازدواجی آداب اور فأتوا حرثكم أنى شئتم کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۲۷

وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنِي أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 , قَالَ : " يَأْتِيهَا فِي " ،رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ .

ابن عمر روایت:

آیت «فأتوا حرثكم أنى شئتم‏» ”سو تم اپنے کھیت میں آؤ جس طرح چاہو۔“ کے بارے میں فرمایا کہ (پیچھے سے بھی) آ سکتا ہے۔ اور اس حدیث کو محمد بن یحییٰ بن سعید بن قطان نے بھی اپنے والد سے، انہوں نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع زوجین کے تعلق سے متعلق سورۃ البقرہ کی آیت کی وضاحت ہے۔ روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فأتوا حرثكم أنى شئتم کے بارے میں قول نقل ہوا ہے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے شرح میں احتیاط ضروری ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ صحابہ آیات کے معنی کو محض اپنی رائے سے نہیں، بلکہ نقل اور فہم کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ یہاں آیت کے الفاظ میں بیوی کو حرث کہا گیا ہے، یعنی نکاح کے جائز دائرے میں اولاد اور ازدواجی تعلق کا پہلو بیان ہوا۔ علمائے کرام کے مطابق اس طرح کی روایات کو نکاح کے جائز آداب کے اندر سمجھا جاتا ہے، نہ کہ بے قید معنی میں۔ اس لیے اس حدیث کو سنجیدگی اور حیا کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ازدواجی معاملات میں قرآن و حدیث کی رہنمائی کو ادب کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
  • مختصر روایت کی تشریح میں احتیاط ضروری ہے۔
  • صحابہ آیات کے معنی معتبر علم کے ساتھ بیان کرتے تھے۔
  • نکاح کے مسائل میں غیر محتاط زبان اور غلط فہمی سے بچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں