صحیح بخاری حدیث ۴۵۳۷ - ایمان کے ساتھ دل کا اطمینان
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دل کے اطمینان کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۵۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۳۷
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شک کرنے کا ہمیں ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق ہے، جب انہوں نے عرض کیا تھا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا، اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا، کیا تجھ کو یقین نہیں ہے؟ عرض کی یقین ضرور ہے، لیکن میں نے یہ درخواست اس لیے کی ہے کہ میرے دل کو اور اطمینان حاصل ہو جائے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۵۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ایمان اور دل کا اطمینان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کا ذکر فرمایا، جب انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، لیکن اس لیے کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ اس حدیث کو پڑھتے وقت یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ابراہیم علیہ السلام کا سوال شک کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ یقین کے ساتھ مزید اطمینان کی طلب تھی۔ اسی لیے حدیث کا اہم لفظ اطمئنان قلب ہے۔ انسان کبھی کسی بات کو مانتا ہے، مگر اسے سمجھنے اور دل کے سکون کے لیے مزید وضاحت چاہتا ہے؛ یہ طلب ادب کے ساتھ ہو تو علم کا راستہ بنتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کے ساتھ دل کے اطمینان کی طلب جائز معنی رکھتی ہے۔
- حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سوال یقین کے بعد مزید اطمینان کے لیے تھا۔
- اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔
- دینی سوال ادب اور یقین کے ساتھ کیا جائے تو علم بڑھتا ہے۔
