صحیح بخاری حدیث ۴۵۳۶ - قرآن کی آیت اپنی جگہ باقی رکھنا
قرآن کی ترتیب نہ بدلنے کے بارے میں عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۵۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۳۶
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ , وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , قَالَ : قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ , قُلْتُ : لِعُثْمَانَ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا إِلَى قَوْلِهِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 234 - 240 قَدْ نَسَخَتْهَا الْأُخْرَى فَلِمَ تَكْتُبُهَا ، قَالَ : " تَدَعُهَا يَا ابْنَ أَخِي لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ " , قَالَ حُمَيْدٌ : أَوْ نَحْوَ هَذَا .
ابن ابی ملیکہ روایت:
ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سورۃ البقرہ کی آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» یعنی ”جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان «غير إخراج» تک کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔ اس کو آپ نے مصحف میں کیوں لکھوایا، چھوڑ کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! میں کسی آیت کو اس کے ٹھکانے سے بدلنے والا نہیں۔ یہ حمید نے کہا یا کچھ ایسا ہی جواب دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۳۶ کا خلاصہ
یہ روایت قرآن کی ترتیب اور مصحف کی امانت سے متعلق ہے۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سورۃ البقرہ کی آیت والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا سے غیر إخراج تک کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے، پھر اسے مصحف میں کیوں لکھا گیا؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اے بھتیجے! اسے چھوڑ دو، میں اس میں سے کسی چیز کو اس کی جگہ سے نہیں بدلوں گا۔ اس جواب میں قرآن کے ساتھ صحابہ کی احتیاط صاف نظر آتی ہے۔ حکم کا منسوخ ہونا ایک علمی مسئلہ ہے، مگر قرآن کی تلاوت میں موجود آیت کو اپنی جگہ سے ہٹانا جائز تصرف نہیں سمجھا گیا۔ یہی قرآن کی حفاظت کا عملی انداز تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی آیات کی جگہ بدلنا کسی فرد کی رائے کا معاملہ نہیں۔
- صحابہ مصحف کے معاملے میں بہت محتاط تھے۔
- منسوخ حکم والی آیت بھی تلاوت میں باقی رہ سکتی ہے۔
- دینی امانت میں ذاتی رائے سے تبدیلی نہیں کی جاتی۔
