صحیح بخاری حدیث ۴۵۳۵ - خوف کے وقت نماز کا طریقہ
نماز خوف کا طریقہ اور شدید حالت میں نماز کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۵۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۳۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ , قَالَ : "يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُصَلِّي بِهِمُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَتَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا ، فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا ، وَلَا يُسَلِّمُونَ وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ الْإِمَامُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَيَقُومُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ ، فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ , فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَإِنْ كَانَ خَوْفٌ هُوَ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالًا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا " ، قَالَ مَالِكٌ : قَالَ نَافِعٌ : لَا أُرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ذَكَرَ ذَلِكَ إِلَّا , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نافع روایت:
جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نماز خوف کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ فرماتے کہ امام مسلمانوں کی ایک جماعت کو لے کر خود آگے بڑھے اور انہیں ایک رکعت نماز پڑھائے۔ اس دوران میں مسلمانوں کی دوسری جماعت ان کے اور دشمن کے درمیان میں رہے۔ یہ لوگ نماز میں ابھی شریک نہ ہوں، پھر جب امام ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھا چکے جو پہلے اس کے ساتھ تھے تو اب یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں اور ان کی جگہ لے لیں، جنہوں نے اب تک نماز نہیں پڑھی ہے، لیکن یہ لوگ سلام نہ پھیریں۔اب وہ لوگ آگے بڑھیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے اور امام انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائے، اب امام دو رکعت پڑھ چکنے کے بعد نماز سے فارغ ہو چکا۔ پھر دونوں جماعتیں (جنہوں نے الگ الگ امام کے ساتھ ایک ایک رکعت نماز پڑھی تھی) اپنی باقی ایک ایک رکعت ادا کر لیں۔ جبکہ امام اپنی نماز سے فارغ ہو چکا ہے۔ اس طرح دونوں جماعتوں کی دو دو رکعت پوری ہو جائیں گی۔ لیکن اگر خوف اس سے بھی زیادہ ہے تو ہر شخص تنہا نماز پڑھ لے، پیدل ہو یا سوار، قبلہ کی طرف رخ ہو یا نہ ہو۔امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ مجھ کو یقین ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ہی بیان کی ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نماز خوف ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا جاتا تو وہ بتاتے کہ امام ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائے، دوسری جماعت دشمن کے سامنے نگرانی میں رہے۔ پھر پہلی جماعت پیچھے ہو جائے اور دوسری جماعت آ کر امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے۔ امام دو رکعت مکمل کر کے فارغ ہو جائے، پھر دونوں جماعتیں اپنی باقی رکعتیں پوری کریں۔ اگر خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر شخص اپنی حالت کے مطابق نماز پڑھ لے، چاہے پیدل ہو یا سوار، قبلہ رخ ہو یا نہ ہو۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کسی حال میں چھوڑنے کی چیز نہیں، البتہ شدید خطرے میں طریقہ آسان کر دیا جاتا ہے۔ دین عبادت کو باقی رکھتا ہے اور حالت کے مطابق آسانی بھی دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خوف اور جنگ کے حالات میں بھی نماز کی پابندی باقی رہتی ہے۔
- شدید خطرے میں نماز کے طریقے میں آسانی دی گئی ہے۔
- جماعت اور حفاظت دونوں کا خیال رکھا گیا۔
- دین مشکل وقت میں حکم ختم نہیں کرتا، بلکہ مناسب سہولت دیتا ہے۔
