صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۶ - اللہ جان سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا

لا يكلف الله نفسا إلا وسعها اور آیت کے نسخ کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۴۶

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ , أَخْبَرَنَا رَوْحٌ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : أَحْسِبُهُ ابْنَ عُمَرَ , " وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ سورة البقرة آية 284 , قَالَ : نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا " .

´مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہیں روح بن عبادہ نے خبر دی، انہیں شعبہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں مروان اصفر نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے، کہا کہ` وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ انہوں نے آیت «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه‏» کے متعلق بتلایا کہ اس آیت کو اس کے بعد کی آیت ( «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها») نے منسوخ کر دیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بتایا گیا کہ آیت اگر تم اپنے دل کی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اس کے بعد آنے والی آیت لا يكلف الله نفسا إلا وسعها سے منسوخ ہوئی۔ اس لیے اس روایت کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ یہاں دل کے خیالات، چھپی ہوئی بات اور آیت منسوخ ہونے کا ذکر ایک ہی قرآنی سیاق میں آیا ہے۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ قرآن کے احکام کو سمجھنے کے لیے صحابہ کی وضاحت بہت اہم ہے۔ اس میں کوئی اضافی واقعہ یا الگ حکم بیان نہیں کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ بندے پر اس کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں ڈالتا۔
  • بعد والی آیت کبھی پہلے حکم کی وضاحت یا نسخ کا سبب بن سکتی ہے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کے معانی کو روایت کے ساتھ محفوظ کرتے تھے۔
  • دل کی بات کے مسئلے کو اسی آیت کے سیاق میں سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں