صحیح بخاری حدیث ۴۵۸۷ - کمزور اور معذور لوگوں کا ذکر

مستضعفین کی حدیث: کمزور لوگوں کا عذر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۸۷

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ " .

عبیداللہ روایت:

میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں اور میری والدہ «مستضعفين» (کمزوروں) میں سے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۵۸۷ کا خلاصہ

یہ حدیث مختصر ہے، مگر اس میں ایک اہم بات ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور میری والدہ مستضعفین میں سے تھے۔ مستضعفین سے مراد وہ کمزور لوگ ہیں جو اپنی حالت، عمر، طاقت، یا حالات کی وجہ سے عام لوگوں جیسا قدم نہیں اٹھا سکتے تھے۔ اس حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں آئی، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا بہتر ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اور اپنی والدہ کے بارے میں یہ نسبت بیان کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں انسان کے حالات کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ جو لوگ واقعی کمزور یا مجبور ہوں، ان کا معاملہ عام طاقت رکھنے والوں جیسا نہیں سمجھا جاتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کمزور لوگوں کے حالات کو سمجھنا دینی مزاج کا حصہ ہے۔
  • ہر شخص کی ذمہ داری اس کی حالت کے مطابق دیکھی جاتی ہے۔
  • ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اور اپنی والدہ کو مستضعفین میں شمار کیا۔
  • مختصر حدیث سے بھی ایک اہم اصول سمجھ آ سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں