صحیح بخاری حدیث ۴۵۹ - سود کی آیات اور شراب کی تجارت
سود کی آیات اور شراب کی تجارت کی حرمت
صحیح بخاری : ۴۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۹
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا ، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ حَرَّمَ تِجَارَةَ الْخَمْرِ " .
عائشہ روایت:
جب سورۃ البقرہ کی سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے اور ان آیات کی لوگوں کے سامنے تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا کہ شراب کی تجارت حرام ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں مسجد کو دینی اعلان اور تعلیم کی جگہ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سورۃ البقرہ کی سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم مسجد میں تشریف لے گئے، لوگوں کے سامنے ان آیات کی تلاوت فرمائی، پھر شراب کی تجارت کو حرام قرار دیا۔ حدیث کا مرکزی موضوع سود کی آیات، شراب کی تجارت کی حرمت، اور مسجد میں لوگوں کو حکم پہنچانا ہے۔ اس متن میں خاص طور پر تجارت خمر کا ذکر ہے، اس لیے بات اسی تک رہنی چاہیے۔ مسلمان کے لیے کمائی کا راستہ حلال ہونا چاہیے، اور جب اللہ کا حکم آ جائے تو اسے ماننا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سود سے متعلق آیات لوگوں کو سنائی گئیں۔
- شراب کی تجارت حرام قرار دی گئی۔
- مسجد میں اہم دینی حکم بیان کیا گیا۔
- کمائی کے معاملے میں حلال و حرام کا خیال ضروری ہے۔
