صحیح مسلم حدیث ۱۵۸۰ - سفر میں نفل اور قصر نماز
سفر میں نفل نماز کا سوال اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جواب
صحیح مسلم : ۱۵۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۸۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : مَرِضْتُ مَرَضًا ، فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ يَعُودُنِي ، قَالَ : وَسَأَلْتُهُ عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ " صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ ، فَمَا رَأَيْتُهُ يُسَبِّحُ ، وَلَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ " ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 .
حفص روایت:
میں ایک بار بیمار ہوا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما میری بیمار پرسی کو آئے تو میں نے ان سے سفر میں سنتوں کے پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں رہا اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنت پڑھتے نہیں دیکھا۔ اگر مجھے سنت پڑھنی ہوتی تو میں فرض ہی پورے کرتا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ اللَّهِ إِسْوَةٌ حَسَنَةٌ» ”تمھارے لئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چال اچھی ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۸۰ کا خلاصہ
اس روایت میں حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ وہ بیمار ہوئے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عیادت کے لیے آئے۔ حفص نے ان سے سفر میں سنتوں کے بارے میں سوال کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں رہا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا۔ پھر فرمایا کہ اگر مجھے سنت پڑھنی ہوتی تو میں فرض ہی پورے کرتا۔ آخر میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کا فرمان پڑھا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اچھا نمونہ ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع قصر نماز، سفر میں نفل اور سنتوں کا سوال ہے۔ روایت کا دائرہ یہی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے مشاہدے کی بنیاد پر جواب دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو نمونہ قرار دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سفر میں سنتوں کے سوال کا جواب اپنے مشاہدے سے دیا۔
- انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا۔
- اگر سنتیں پڑھنی ہوتیں تو فرض پورے کرنے کی بات فرمائی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو دلیل بنایا گیا۔
