صحیح مسلم حدیث ۱۵۷۷ - مکہ میں مسافر کی نماز

مکہ میں مسافر امام کے بغیر نماز کیسے پڑھے؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۷۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، " كَيْفَ أُصَلِّي إِذَا كُنْتُ بِمَكَّةَ ، إِذَا لَمْ أُصَلِّ مَعَ الإِمَامِ ؟ فَقَالَ : " رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

موسیٰ بن سلمہ روایت:

میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ جب میں مکہ میں ہوں (یعنی سفر میں) اور امام کے ساتھ نماز نہ ہو تو کیسے نماز پڑھوں؟ انہوں نے فرمایا: دو رکعت ادا کرنی سنت ہے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ (ابوالقاسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں موسیٰ بن سلمہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک عملی سوال کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ جب میں مکہ میں ہوں اور امام کے ساتھ نماز نہ پڑھوں تو کیسے نماز پڑھوں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: دو رکعت، یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع قصر نماز اور مسافر کی نماز ہے۔ سوال مکہ کے بارے میں تھا، اور جواب امام کے ساتھ نماز نہ ہونے کی صورت میں دیا گیا۔ اس لیے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے یہی کہنا درست ہے کہ اس خاص سوال کے جواب میں دو رکعت کا حکم بیان ہوا۔ قصر نماز، مکہ میں مسافر کی نماز، امام کے بغیر نماز اور سنت ابوالقاسم اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔ حدیث مختصر ہے مگر سفر میں نماز کے ایک عام سوال کا صاف جواب دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسافر نے امام کے بغیر نماز کے بارے میں سوال کیا۔
  • ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو رکعت کا جواب دیا۔
  • دو رکعت کو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کہا گیا۔
  • دینی مسئلہ معلوم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں