صحیح مسلم حدیث ۱۵۷۶ - مسافر، مقیم اور خوف کی نماز
مسافر پر دو رکعت اور مقیم پر چار رکعت: حدیث کا صاف بیان
صحیح مسلم : ۱۵۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۷۶
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى الْمُسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَعَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً " .
ابن عباس روایت:
اللہ نے فرض کیا تمہارے نبی کی زبان پر نماز کو، مسافر پر دو رکعتیں، مقیم پر چار اور حالت خوف میں ایک رکعت۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۷۶ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے اور پچھلے مضمون کو دوسرے انداز میں بیان کرتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر نماز فرض کی: مسافر پر دو رکعت، مقیم پر چار رکعت، اور خوف میں ایک رکعت۔ اس حدیث کا اصل موضوع قصر نماز ہے، مگر ساتھ ہی مقیم کی نماز اور خوف کی نماز کا ذکر بھی آتا ہے۔ یہ بات عام فہم انداز میں سمجھ آتی ہے کہ ہر حالت میں نماز کا حکم ایک ہی شکل میں بیان نہیں ہوا، بلکہ سفر اور خوف جیسی حالتوں کا لحاظ رکھا گیا۔ حدیث کے الفاظ میں مسافر، مقیم اور خوف کی نماز واضح ہیں۔ اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک ہے کہ سفر کی حالت میں دو رکعت کا بیان آیا ہے اور مقیم کے لیے چار رکعت کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسافر کے لیے دو رکعت کا بیان آیا ہے۔
- مقیم کے لیے چار رکعت کا ذکر ہے۔
- خوف کی حالت میں ایک رکعت بیان ہوئی ہے۔
- نماز کی ادائیگی میں حالت کا فرق حدیث میں موجود ہے۔
