صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۵ - بدر میں نکلنے والوں کی فضیلت
اہل بدر کی فضیلت اور بلا عذر پیچھے رہنے کا فرق
صحیح بخاری : ۴۵۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۹۵
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ ، " لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 ، عَنْ بَدْرٍ ، وَالْخَارِجُونَ إِلَى بَدْرٍ " .
ابن عباس روایت:
«لا يستوي القاعدون من المؤمنين» سے اشارہ ہے ان لوگوں کی طرف جو بدر میں شریک تھے اور جنہوں نے بلا کسی عذر کے بدر کی لڑائی میں شرکت نہیں کی تھی، وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے “لا يستوي القاعدون من المؤمنين” کی تفسیر بدر کے حوالے سے بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو بدر میں شریک ہوئے، اور ان لوگوں کی طرف جو بغیر کسی عذر کے بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہوئے۔ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ حدیث کا مقصد یہ نہیں کہ ہر بیٹھنے والے پر ایک ہی حکم لگا دیا جائے، کیونکہ دوسری روایات میں عذر والوں کا ذکر آ چکا ہے۔ یہاں اصل بات بدر میں نکلنے والوں کی فضیلت اور بلا عذر پیچھے رہنے والوں کا فرق ہے۔ یہ ہمیں عمل، موقع، اور ذمہ داری کی اہمیت سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بدر میں شریک ہونے والوں کی فضیلت بیان ہوئی۔
- بلا عذر پیچھے رہنے والے اور نکلنے والے برابر نہیں۔
- دینی ذمہ داری میں عذر اور بلا عذر کا فرق اہم ہے۔
- قرآنی آیت کی تفسیر صحابہ سے لینا مفید ہے۔
