صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۴ - آیت کی کتابت اور نابینا کا عذر
قرآن کی کتابت، جہاد کی فضیلت اور عذر والے مومن
صحیح بخاری : ۴۵۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۹۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْعُوا فُلَانًا " ، فَجَاءَهُ وَمَعَهُ الدَّوَاةُ وَاللَّوْحُ أَوِ الْكَتِفُ ، فَقَالَ : " اكْتُبْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة النساء آية 95 " ، وَخَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا ضَرِيرٌ ، فَنَزَلَتْ مَكَانَهَا لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة النساء آية 95 .
براء بن عازب روایت:
جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں (یعنی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) کو بلاؤ۔ وہ اپنے ساتھ دوات اور تختی یا شانہ کی ہڈی لے کر حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله»۔ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے موجود تھے، عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نابینا ہوں۔ چنانچہ وہیں اس طرح آیت نازل ہوئی «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون في سبيل الله»۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۴ کا خلاصہ
اس روایت میں آیت کے لکھوائے جانے کی تفصیل زیادہ واضح ہے۔ جب “لا يستوي القاعدون من المؤمنين” نازل ہوئی تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ فلاں کو بلاؤ، یعنی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو۔ وہ دوات اور تختی یا شانہ کی ہڈی لے کر آئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے آیت لکھوائی کہ بیٹھ رہنے والے مومن اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں۔ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ پیچھے موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نابینا ہوں۔ اسی جگہ آیت میں “غیر اولی الضرر” نازل ہوا۔ یہ حدیث قرآن کی حفاظت، وحی کی نزول، اور عذر والے مؤمن کے مقام کو سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم سے صحابہ کے ذریعے لکھوایا جاتا تھا۔
- جہاد کرنے والوں اور بلا عذر بیٹھنے والوں میں فرق بیان ہوا۔
- نابینا صحابی کا عذر اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا۔
- دین میں حقیقی مجبوری کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
