صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۳ - ابن ام مکتوم کا عذر

ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اور معذور مومن کی رعایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۹۳

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَكَتَبَهَا ، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَشَكَا ضَرَارَتَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 " .

براء بن عازب روایت:

جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين‏» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو کتابت کے لیے بلایا اور انہوں نے وہ آیت لکھ دی۔ پھر عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور اپنے نابینا ہونے کا عذر پیش کیا، تو اللہ تعالیٰ نے «غير أولي الضرر‏» کے الفاظ اور نازل کئے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت “لا يستوي القاعدون من المؤمنين” نازل ہوئی تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہوں نے آیت لکھ دی۔ پھر عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور اپنے نابینا ہونے کا عذر پیش کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے “غیر اولی الضرر” کے الفاظ نازل فرمائے۔ یہ حدیث بہت صاف انداز میں بتاتی ہے کہ بلا عذر بیٹھنے والا اور عذر والا ایک جیسا نہیں۔ دین میں معذوری کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ ساتھ ہی اس میں قرآن کی کتابت، وحی، اور صحابہ کی دینی فکر بھی سامنے آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • معذور شخص کا عذر شریعت میں معتبر ہو سکتا ہے۔
  • بلا عذر بیٹھنے والوں اور عذر والوں میں فرق رکھا گیا۔
  • صحابہ اپنے دینی معاملے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس حاضر ہوتے تھے۔
  • قرآن کے الفاظ وحی کے ذریعے نازل ہوئے اور لکھوائے گئے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں