صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۲ - معذور اور مجاہد برابر نہیں
غیر اولی الضرر: معذور لوگوں کا عذر اور جہاد کی فضیلت
صحیح بخاری : ۴۵۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۹۲
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ : أَنَّهُ رَأَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَى عَلَيْهِ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة النساء آية 95 ، فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهْوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ ، وَكَانَ أَعْمَى ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَثَقُلَتْ عَلَيَّ ، حَتَّى خِفْتُ أَنْ تَرُضَّ فَخِذِي ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 " .
سہل بن سعد ساعدی روایت:
´ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` انہوں نے مروان بن حکم بن عاص کو مسجد میں دیکھا (بیان کیا کہ) پھر میں ان کے پاس آیا اور ان کے پہلو میں بیٹھ گیا، انہوں نے مجھے خبر دی اور انہیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ آیت لکھوائی «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» ”مسلمانوں میں سے (گھر) بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔“ابھی آپ یہ آیت لکھوا ہی رہے تھے کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! اگر میں جہاد میں شرکت کر سکتا تو یقیناً جہاد کرتا۔ وہ اندھے تھے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے رسول پر وحی اتاری۔ آپ کی ران میری ران پر تھی (شدت وحی کی وجہ سے) اس کا مجھ پر اتنا بوجھ پڑا کہ مجھے اپنی ران کے پھٹ جانے کا اندیشہ ہو گیا۔ آخر یہ کیفیت ختم ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے «غير أولي الضرر» کے الفاظ اور نازل کئے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ان سے آیت لکھوا رہے تھے کہ بیٹھ رہنے والے مومن اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے والے برابر نہیں۔ اسی وقت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا کہ اگر میں جہاد کر سکتا تو ضرور کرتا، جبکہ وہ نابینا تھے۔ پھر وحی نازل ہوئی اور “غیر اولی الضرر” کے الفاظ شامل ہوئے، یعنی وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو عذر والے ہوں۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے وحی کی شدت بھی محسوس کی۔ یہ حدیث جہاد کی فضیلت کے ساتھ ساتھ معذور مومن کے عذر کو بھی صاف بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں جان و مال سے کوشش کرنے والوں کی فضیلت بیان ہوئی۔
- معذور شخص کو بلا عذر بیٹھنے والوں جیسا نہیں رکھا گیا۔
- ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنا عذر صاف پیش کیا۔
- وحی کا نزول ایک عظیم اور بھاری کیفیت کے ساتھ ہوتا تھا۔
