صحیح بخاری حدیث ۴۹۹۰ - جہاد میں عذر رکھنے والوں کا حکم

لا يستوي القاعدون حدیث: جہاد، عذر اور وحی کی کتابت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۹۰

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة النساء آية 95 ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُ لِي زَيْدًا وَلْيَجِئْ بِاللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ وَالْكَتِفِ أَوِ الْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ ، ثُمَّ قَالَ : اكْتُبْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ سورة النساء آية 95 ، وَخَلْفَ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنِي فَإِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، فَنَزَلَتْ مَكَانَهَا : 0 لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ 0 " .

براء بن عازب روایت:

جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله‏» نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید کو میرے پاس بلاؤ اور ان سے کہو کہ تختی، دوات اور مونڈھے کی ہڈی (لکھنے کا سامان) لے کر آئیں، یا راوی نے اس کی بجائے ہڈی اور دوات (کہا) پھر (جب وہ آ گئے تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لکھو «لا يستوي القاعدون‏"‏» الخ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے عمرو ابن ام مکتوم بیٹھے ہوئے تھے جو نابینا تھے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر آپ کا میرے بارے میں کیا حکم ہے۔ میں تو نابینا ہوں (جہاد میں نہیں جا سکتا اب مجھ کو بھی مجاہدین کا درجہ ملے گا یا نہیں) اس وقت یہ آیت یوں اتری «لا يستوي القاعدون من المؤمنين‏» الخ نازل ہوئی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۹۹۰ کا خلاصہ

یہ حدیث سورۃ النساء کی آیت لا يستوي القاعدون کے نزول سے متعلق ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ گھر بیٹھنے والے مومن اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے برابر نہیں، تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو بلانے کا حکم دیا تاکہ وہ آیت لکھیں۔ زید رضی اللہ عنہ لکھنے کا سامان لے کر آئے، پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں الفاظ لکھوائے۔ اسی وقت عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ، جو نابینا تھے، نے اپنا حال عرض کیا کہ میرے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس پر آیت میں غیر اولی الضرر کا ذکر نازل ہوا۔ اس سے جہاد میں معذور افراد کا حکم واضح ہوتا ہے کہ عذر رکھنے والوں کا معاملہ الگ ہے۔ یہ حدیث وحی کی کتابت، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خدمت، اور دینی حکم پوچھنے کے ادب کو بھی صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وحی نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اسے لکھوانے کا اہتمام فرمایا۔
  • اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں اور بلا عذر بیٹھ رہنے والوں کا مقام برابر نہیں بتایا گیا۔
  • جس شخص کو حقیقی عذر ہو، اس کا حکم عام بیٹھ رہنے والوں جیسا نہیں رکھا گیا۔
  • دینی معاملے میں اپنا حال نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے عرض کرنا صحابہ رضی اللہ عنہم کا طریقہ تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں