صحیح بخاری حدیث ۴۶۲۰ - مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی
حرمت شراب کا اعلان اور مدینہ میں شراب بہانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۲۰
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ الْخَمْرَ الَّتِي أُهْرِيقَتِ الْفَضِيخُ ، وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ الْبِيكَنْدِيُّ ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ ، قَالَ : كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ ، فَنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا ، فَنَادَى ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : اخْرُجْ ، فَانْظُرْ مَا هَذَا الصَّوْتُ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ ، فَقُلْتُ : هَذَا مُنَادٍ يُنَادِي ، أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، فَقَالَ لِي : اذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا ، قَالَ : فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : وَكَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : قُتِلَ قَوْمٌ وَهْيَ فِي بُطُونِهِمْ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 " .
انس بن مالک روایت:
حرمت نازل ہونے کے بعد) جو شراب بہائی گئی تھی وہ «فضيخ.» کی تھی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد نے ابوالنعمان سے اس زیادتی کے ساتھ بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں صحابہ کی ایک جماعت کو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر شراب پلا رہا تھا کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا اور انہوں نے اعلان کرنا شروع کیا۔ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: باہر جا کے دیکھو یہ آواز کیسی ہے۔ بیان کیا کہ میں باہر آیا اور کہا کہ ایک منادی اعلان کر رہا ہے کہ ”خبردار ہو جاؤ، شراب حرام ہو گئی ہے۔“ یہ سنتے ہی انہوں نے مجھ کو کہا کہ جاؤ اور شراب بہا دو۔ راوی نے بیان کیا، مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔ راوی نے بیان کیا کہ ان دنوں «فضيخ.» شراب استعمال ہوتی تھی۔بعض لوگوں نے شراب کو جو اس طرح بہتے دیکھا تو کہنے لگے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے شراب سے اپنا پیٹ بھر رکھا تھا اور اسی حالت میں انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔ بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا» ”جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے رہتے ہیں، ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو انہوں نے کھا لیا۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۶۲۰ کا خلاصہ
یہ روایت شراب کی حرمت کے اعلان اور صحابہ کے فوری عمل کو بیان کرتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہے تھے کہ حرمت شراب نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو اعلان کا حکم دیا۔ جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ اعلان ہو رہا ہے کہ شراب حرام ہو گئی ہے، تو انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جا کر شراب بہا دو۔ روایت میں آتا ہے کہ مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔ پھر ان لوگوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی جو حرمت سے پہلے کھا پی چکے تھے۔ یہ حدیث اطاعت، حرمت شراب، اور حکم آنے کے بعد فوراً عمل کی مثال ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حرمت شراب کا اعلان ہوتے ہی صحابہ نے شراب بہا دی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کے ذریعے حکم پہنچوایا۔
- حکم آنے کے بعد صحابہ نے کوئی تاخیر نہیں کی۔
- حرمت سے پہلے کے عمل کے بارے میں آیت نازل ہونے کا ذکر آیا ہے۔
