صحیح بخاری حدیث ۵۵۷۵ - شراب پینے اور توبہ کی حدیث
شراب پینے والے کے لیے توبہ کی سخت ضرورت
صحیح بخاری : ۵۵۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۷۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا، حُرِمَهَا فِي الآخِرَةِ».
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس نے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع شراب پینا اور توبہ ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں شراب پی، پھر اس سے توبہ نہ کی، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔ حدیث کے الفاظ بہت مختصر ہیں مگر پیغام صاف ہے۔ شراب کوئی معمولی گناہ نہیں، بلکہ اس پر آخرت کی محرومی کی تنبیہ آئی ہے۔ ساتھ ہی حدیث میں توبہ کا دروازہ بھی ذکر ہوا ہے، کیونکہ فرمایا گیا کہ پھر اس نے توبہ نہیں کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان گناہ کے بعد خود کو بے پروا نہ سمجھے، بلکہ فوراً اللہ کی طرف پلٹے۔ شراب کی حرمت، توبہ کی اہمیت، اور آخرت کی فکر اس حدیث کے بنیادی نکات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شراب پینے پر حدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
- گناہ کے بعد توبہ نہ کرنا بڑی محرومی کا سبب بتایا گیا ہے۔
- آخرت کی فکر انسان کو حرام کام سے روک سکتی ہے۔
- توبہ کا ذکر حدیث کے متن میں واضح طور پر موجود ہے۔
