صحیح بخاری حدیث ۵۵۷۸ - شراب، زنا اور چوری پر سخت تنبیہ

شراب، زنا اور چوری ایمان کے لیے خطرناک گناہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۷۸

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَابْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولَانِ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ثُمَّ يَقُولُ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُلْحِقُ مَعَهُنَّ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ ، يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ فِيهَا حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب وہ شراب پیتا ہے تو عین شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔اور ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں امور مذکورہ کے ساتھ اتنا اور زیادہ کرتے تھے کہ کوئی شخص (دن دھاڑے) اگر کسی بڑی پونجی پر اس طور ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن رہتے ہوئے یہ لوٹ مار نہیں کرتا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۵۷۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے گناہوں کے بارے میں بہت سخت انداز میں تنبیہ فرمائی۔ فرمایا کہ زنا کرنے والا عین زنا کے وقت مومن نہیں ہوتا، شراب پینے والا عین شراب پینے کے وقت مومن نہیں ہوتا، اور چور عین چوری کے وقت مومن نہیں ہوتا۔ روایت میں لوٹ مار کا بھی ذکر آیا کہ جب کوئی بڑی چیز لوگوں کے سامنے چھینتا ہے تو وہ بھی اس حال میں مومن نہیں ہوتا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ گناہ ایمان والے طرز زندگی کے خلاف ہیں اور انسان کے ایمان کو سخت نقصان پہنچاتے ہیں۔ متن میں خاص طور پر شراب، زنا، چوری اور ڈاکہ جیسے اعمال کو ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو اپنی عزت، امانت، پاک دامنی اور عقل کی حفاظت کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زنا، شراب اور چوری کے بارے میں حدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
  • گناہ کرتے وقت انسان ایمان کے تقاضے سے دور ہو جاتا ہے۔
  • لوگوں کا مال چھیننا بھی اس روایت میں سخت گناہ کے طور پر آیا ہے۔
  • مومن کو ایسے کاموں سے بچنا چاہیے جو ایمان کو کمزور کریں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں