صحیح بخاری حدیث ۵۵۸۵ - ہر نشہ آور مشروب حرام ہے
ہر نشہ آور مشروب حرام ہے: جامع حدیث
صحیح بخاری : ۵۵۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۸۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ ، فَقَالَ : " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بتع» کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی پینے والی چیز نشہ لاوے وہ حرام ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بتع کے بارے میں پوچھا گیا۔ بتع شہد سے بننے والے مشروب کے لیے آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ایک عام اصول بیان فرمایا کہ جو بھی پینے والی چیز نشہ لائے وہ حرام ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع ہر نشہ آور مشروب کی حرمت ہے۔ یہاں کسی ایک نام، ایک علاقے یا ایک چیز تک بات محدود نہیں رکھی گئی۔ سوال ایک خاص مشروب کے بارے میں تھا، مگر جواب ایسا دیا گیا جو ہر نشہ آور پینے والی چیز پر لاگو ہوتا ہے۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ اصل مسئلہ نشہ ہے۔ اگر کوئی مشروب عقل کو متاثر کرے اور نشہ پیدا کرے تو حدیث کے الفاظ کے مطابق وہ حرام ہے۔ یہ مختصر حدیث شراب اور نشہ آور مشروبات کے باب میں بہت واضح اصول دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جو بھی پینے والی چیز نشہ لائے، وہ حرام ہے۔
- حکم صرف ایک خاص نام کے مشروب تک محدود نہیں۔
- سوال خاص تھا مگر جواب عام اصول کی صورت میں دیا گیا۔
- نشہ عقل کو متاثر کرتا ہے، اسی لیے اس سے بچنا ضروری ہے۔
