صحیح بخاری حدیث ۴۶۵۳ - صبر، کمزوری اور تخفیف کا حکم
صبر کرنے والوں کی تعداد اور تخفیف والی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۵۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ خِرِّيتٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ سورة الأنفال آية 65 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حِينَ فُرِضَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةٍ ، فَجَاءَ التَّخْفِيفُ ، فَقَالَ : الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا فَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ سورة الأنفال آية 66 ، قَالَ : فَلَمَّا خَفَّفَ اللَّهُ عَنْهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ ، نَقَصَ مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خُفِّفَ عَنْهُمْ " .
ابن عباس روایت:
جب یہ آیت اتری «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» کہ ”اگر تم میں سے بیس آدمی بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے۔“ تو مسلمانوں پر سخت گزرا کیونکہ اس آیت میں ان پر یہ فرض قرار دیا گیا تھا کہ ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے سے نہ بھاگے۔ اس لیے اس کے بعد تخفیف کی گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «الآن خفف الله عنكم وعلم أن فيكم ضعفا فإن يكن منكم مائة صابرة يغلبوا مائتين» کہ ”اب اللہ نے تم سے تخفیف کر دی اور معلوم کر لیا کہ تم میں جوش کی کمی ہے۔ سو اب اگر تم میں صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تعداد کی اس کمی سے اتنی ہی مسلمانوں کے صبر میں کمی ہو گئی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۵۳ کا خلاصہ
اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر تم میں بیس صبر کرنے والے ہوں تو دو سو پر غالب آئیں گے، تو یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری۔ وجہ یہ تھی کہ اس میں ایک مسلمان کے لیے دس کے مقابلے سے نہ بھاگنے کا حکم تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرمائی اور فرمایا کہ اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کیا اور جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے۔ اس کے بعد سو صبر کرنے والوں کے دو سو پر غالب آنے کا ذکر آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تعداد کی کمی کو صبر میں کمی کے ساتھ بیان کیا۔ یہ روایت صبر کی حدیث اور تخفیف کے حکم کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی حالت کے مطابق تخفیف فرمائی۔
- صبر کو اس روایت میں عددی نسبت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
- صحابہ کرام آیات کے حکم کو سنجیدگی سے لیتے تھے۔
- حکم کی تبدیلی سمجھنے کے لیے آیات کے نزول کا علم ضروری ہے۔
