صحیح بخاری حدیث ۴۶۵۲ - صبر اور میدان جنگ میں ثبات
صبر کرنے والوں کی آیت اور اللہ کی طرف سے تخفیف
صحیح بخاری : ۴۶۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۵۲
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : لَمَّا نَزَلَتْ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ سورة الأنفال آية 65 ، فَكُتِبَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةٍ ، فَقَالَ سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ : أَنْ لَا يَفِرَّ عِشْرُونَ مِنْ مِائَتَيْنِ ، ثُمَّ نَزَلَتْ الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ سورة الأنفال آية 66 الْآيَةَ ، فَكَتَبَ أَنْ لَا يَفِرَّ مِائَةٌ مِنْ مِائَتَيْنِ ، وَزَادَ سُفْيَانُ مَرَّةً نَزَلَتْ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ سورة الأنفال آية 65 ، قَالَ سُفْيَانُ : وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ : وَأُرَى الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، مِثْلَ هَذَا " .
ابن عباس روایت:
جب یہ آیت نازل ہوئی «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» کہ ”اگر تم میں سے بیس آدمی بھی صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے۔“ تو مسلمانوں کے لیے فرض قرار دے دیا گیا کہ ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے سے نہ بھاگے اور کئی مرتبہ سفیان ثوری نے یہ بھی کہا کہ بیس دو سو کے مقابلے سے نہ بھاگیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «الآن خفف الله عنكم» ”اب اللہ نے تم پر تخفیف کر دی۔“ اس کے بعد یہ فرض قرار دیا کہ ایک سو، دو سو کے مقابلے سے نہ بھاگیں۔ سفیان ثوری نے ایک مرتبہ اس زیادتی کے ساتھ روایت بیان کی کہ آیت نازل ہوئی «حرض المؤمنين على القتال إن يكن منكم عشرون صابرون» کہ ”اے نبی مومنوں کو قتال پر آمادہ کرو۔ اگر تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے ہوں گے۔“ سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن شبرمہ (کوفہ کے قاضی) نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں بھی یہی حکم ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۃ الانفال کی آیت إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين کے بارے میں بتایا۔ پہلے مسلمانوں پر یہ حکم تھا کہ ایک مسلمان دس کے مقابلے سے نہ بھاگے، یا بیس دو سو کے مقابلے سے نہ بھاگیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے الآن خفف الله عنكم والی آیت نازل فرمائی، جس کے بعد حکم میں تخفیف ہوئی اور ایک سو کو دو سو کے مقابلے سے نہ بھاگنے کا حکم بیان ہوا۔ یہ حدیث صبر، ثبات اور تخفیف کے موضوع پر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم کے بیان میں ترتیب اور نازل ہونے والی آیات کو سمجھنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صبر اور ثابت قدمی کو اس آیت میں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
- اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر حکم میں تخفیف فرمائی۔
- آیات کے نزول کی ترتیب سمجھنے سے حکم واضح ہوتا ہے۔
- دینی احکام بیان کرتے وقت اصل متن کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔
